بنگلورو۔26؍نومبر(ایس او نیوز) وزیراعظم نریندر مودی نے راتوں رات نوٹوں پر پابندی لگاکر ملک کو معاشی بحران میں ڈھکیل دیا ہے۔اس صورتحال سے اطمینان بخش طریقے سے نمٹنے میں مودی اوران کی حکومت پوری طرح ناکام ہوچکی ہے، جس کے سبب عوام کو اپنی ہی محنت کی کمائی کیلئے فٹ پاتھوں پر زندگی بسر کرنا پڑ رہا ہے۔یہ بات آج کانگریس پارلیمانی پارٹی لیڈر ملیکارجن کھرگے نے کہی۔ کلبرگی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حقیقی صورتحال سے واقفیت حاصل کئے بغیر وزیراعظم مودی نے راتوں رات نوٹوں پر پابندی کاجو عاجلانہ فیصلہ لیا وہ مرکزی حکومت کی دور اندیشی سے عاری پالیسیوں کی عکاس ہے۔ پیشگی تیاریوں کے بغیر اس طرح کاغیر دانشمندانہ فیصلہ معاشی سطح پر ملک کو پسپائی کی طرف لے جانے کا سبب بناہے۔جب سے نوٹوں پر پابندی لگی ہے ملک کا تجارتی نظام پوری طرح درہم برہم ہوچکا ہے۔ تمام کو اگر اعتماد میں لے کر کالے دھن پر قابو پانے کیلئے وزیراعظم مودی قدم اٹھاتے تو اس کے نتائج ہی کچھ اور ہوتے ، لیکن صورتحال سے یہی لگتا ہے کہ اپنے اقرباء کو چھوڑ کر وزیراعظم نے اس معاملہ میں کسی کو اعتماد میں نہیں لیا، جس کی وجہ سے آج مرکزی حکومت اس دوراہے پر ہے کہ عوام اور اپوزیشن کی مزاحمت کا ان کے پاس کوئی موثر اور مدلل جواب میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس وقت مودی نے اقتدار سنبھالا یہ وعدہ کیاتھاکہ اقتدار کے سو دن کے اندر بیرون ممالک میں رکھا گیاکالا دھن ملک لایا جائے گا اور ملک کے ہر شہری کے بینک کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے جمع کئے جائیں گے، لیکن آج صورتحال اس قدر برعکس ہے کہ غریب عوام کو اپنے ہی بینک کھاتوں سے کم از کم رقم نکالنے کیلئے بھی جدوجہد میں مبتلا ہونا پڑ رہا ہے۔ روز مرہ کی گزر بسر کیلئے بھی اپنی رقم حاصل کرنے لوگوں کو فٹ پاتھوں پر بھکاریوں کی طرح انتظار کروایا جارہاہے، مرکزی حکومت کے اس ظلم کا شکار ہوکر اب تک 70 سے زائد لوگوں کی جانیں تلف ہوچکی ہیں۔ ملک کیلئے اس سے بدبختانہ بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ بے قصور عوام کے جان ومال کی مرکزی حکومت دشمن بن چکی ہے۔کالے دھن پر اگر حملہ کرنا ہی تھا تو ملک کے سرمایہ دار طبقے کو نشانہ بنانے کی ضرورت تھی۔ رشوت خوری، کالے دھن وغیرہ پر قابو پانے کے مقصد سے اگر وزیراعظم مودی نیک نیتی سے قدم اٹھاتے توانہیں ہزار اور پانچ سو کے نوٹ بند کرکے دو ہزار روپے کا نوٹ نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم بارہا یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اور ان کی پارٹی ملک کے غریب طبقے کی طرفدار ہے، لیکن آج نوٹوں پر پابندی کے ذریعہ ان لوگوں نے اپنا اصلی چہرہ عوام پر ظاہر کردیاہے۔وزیر اعظم مودی ان کی حکومت کی طرف سے نوٹ بندی کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات کا خلاصہ ایوان میں رہ کر کرنے کی بجائے مختلف مقامات پر بیان بازی کررہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوک سبھا جیسے ایوان کی عزت کرنا مودی نے سیکھا ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا میڈیا ، عوام اور خاص طور پر غریب طبقہ اس حکومت کی بدعنوانیوں اور بدکاریوں کا مشاہد ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں کے 200 سے زائد اراکین پارلیمان نے نوٹوں پر پابندی کے خلاف اپنا احتجاج درج کروایا ہے۔ 28نومبر کو مرکز کے اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں یوم طیش منایا جارہا ہے۔ اس دن تمام سیاسی پارٹیاں بجز بی جے پی مرکزی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف اپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کریں گی۔